مزہب اسلام ہمیں چار شادیوں کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟اگر تمھیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرکے انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو تمھیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو ِدو دو تین تین چار چار سے ۔لیکن اگر تم کو ڈر ہو کہ تم برابری نہیں کر سکتے تو تمحارے لے ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت میں جو لونڈی ہے۔۔۔یہ ذیادہ بہتر ہے۔(ایسا کرنے سے ناانصافی اور(ایک طرف زیادہ جھکاءو پڑنے سے بچ جاو گے۔۔۔اس آیت کی تفسیر حضرت عائشہ نے اس طرح کی ہے۔۔کہ ایسا شخص جو کہ کسی عورت سے اس کے صاحب حیثیت اور صاحب جمال ہونے کی وجہ سے اس سے شادی تو کر لیتالیکن اس کو دوسری عورتوں کے برابر اس کا پورا حق مہر نہیں دیتا۔۔۔اللہ تعالی نے اس کو اس ظلم سے روکا ہے کہ اگر تم گھر کی ایسی بچیاں جو کہ یتم ہوں نکاح کے بعد ان کے ساتھ برابری نہیں کر سکتے تو تم کو چاہیے کہ تم ان سے نکاح مت کرو۔تمہارے لئے دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کا راستہ کھلا ہے۔۔صحیح بخاری ۔کتاب تفسیر۔۔۔۔۔بلکہ ایک کی بجائے دو سے تین سے حتی کہ چار سے تم نکاح کر سکتے ہو
شرط یہ ہے کہ ان درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو۔ورنہ جتنی چادر ہے اتنےپاوَں پیلاوَ اور ایک سےہی نکاح کرو۔اگرمسلمان مردکو ضرورت ہو تو چار عورتیں بیک وقت اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ ۔مگراس سے ذیادہ نہیں۔۔۔۔جیسا کہ صحیح احادیث میں صاف صاف تحدید کردی گئی ہے۔اسلام ہمارے لیےآسانیاں پیداکرتاہے۔ہمارے لیے بہترین مثال ہمارے نبی کریم ہیں آپ کی زندگی ہمارےلیےبہترین نمونہ ہےآپ نے جو چار شادیاں کیں وہ آپ کے خصائص میں سے ہے۔
ایک ہی عورت سے شادی کرنےہی بہتر ہے۔اگر ذیادہ بیویاں رکھنے کی صورت میں ان کےدرمیان انصاف کرنا بہت مشکل ہے۔اس دور میں دوسری یا تیسری شادی کرنا مشکل ہے۔آج کےدور میں اخراجات بہت زیادہ ہیں۔
قرآن میں صاف صاف فرمایاہے۔۔۔ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساءولوا حرصتم فلا تمیلو کل المیل فتذروھا کالمعلقہ۔۔اور ہرگز اس بات کی طاقت نہ رکھو گے کہ بیویوں کے درمیان انصاف کرسکو ۔اگرچہ تم حرص رکھو۔۔۔(اس لئے یہ تو ضرور کرو(کہ ایک طرف نہ جھک جاؤ۔کہ دوسری بیویوں کو بیچ ادھڑ میں لٹکا رکھو۔۔
اس سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں بغیربغیر نامناسب اور نہایت خطرناک ہے

تبصرے :
ایک تبصرہ شائع کریں