یہ بات سننے میں عجیب لگے کہ جو لوگ چشمہ پہننتے ہیں وہ دوسرے افراد کے مقابلے میں زیادہ ذہین ہوسکتے ہیں۔
اس با ت کا دعویٰ اسکاٹ لینڈ میں کی گیَ ایک تحقیق میں کیا گیا ہے۔
ایڈ نبرگ یونیورسٹی کی ہونے والی تحقیق کے دوران 45 ہزار افراد کے جینیاتی ڈیٹاکو اس تجزیہ میں سے گزارا گیا تو معلوم ہوا کہ جو افراد زیادہ ذہین ہو تے ہیں ان میں اس بات کو زیادہ نوٹ کیا گیا کہ ان افراد میں سے 30 فیصد زیادہ افراد کو نظر کا چشمے یا تو مستعقل لگا ہو ہے یا تو وہ ضرورت پڑنے پر وہ چشمے کا استعمال کر تے ہیں ۔
اس تحقیق میں محققین نے یہ دریافت بھی کیا کہ ذہنی طور پر زیادہ فعال افراد کے جینز خون کی شریانوں کی بہتر صحت میں اہم کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
یہ تحقیق اس وقت اپنی نوعیت کی منفرد تحقیق ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی اس طرح کی کا خیال نہیں آیا تھا۔
اس تحقیقی ٹیم نے 148 جینوم ریجنز پر تجزیہ کیا جن میں سے 58 کےجینوم ریجنز ایسے تھے کہ ان پر پہلے کبھی کسی
نے کچھ بھی کام نہیں کیا تھا۔
اس تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ اس نتائج سے یہ سمجھنے میں یہ مدد ملتی ہے کہ لوگوں عمر بڑھنے سے لوگوں میں ذہنی افعال کی تنزلی مخطالف امراض کا باعث کیوں بنتی ہے۔
لیکن تحقیقی ٹیم یہ بتانے سے قاصر ہے کہ جینز کا ذہانت، خراب بینائی اور خون کی شریانوں کی صحت کے درمیان کیا تعلق ہے۔
تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ یہ ذہنی افعال پر کی جانے والی سب سے بڑی جینیاتی تحقیق ہے اور اس میں سوچنے کی صلاحیت کے حوالے سے بہت سے جینیاتی فرق سامنے آئے ہیں۔
تحقیقی ٹیم نے مزید بتایا کہ جسمانی صحت اور دماغی ساخت پر جینیاتی اثر کی دریافت سے ایسے میکنزم کی کھوج میں مدد ملے گی جو زندگی بھر میں سوچنے کی صلاحیت پر مختلف انداز سے اثرانداز ہوتے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کی اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئے۔

تبصرے :
ایک تبصرہ شائع کریں