آج کل طلاق کی بڑھتی شرح پر قابو پانے کے لیے ملک چین اتنا پریشان ہے کہ اب وہ اپنے متعدد شہروں میں جوڑوں کو علیحدگی کے لیے ایک تحریری امتحان دینا پڑتا ہے۔ جو کہ ہر صورت میں لازمی ہے
جی ہاں واقعی، آپ لوگ یہ پڑھ کر بہت حیران ہونگے کہ جیسے پاکستان میں بچے اگلی جماعتوں میں جانے کے لیے امتحانات دیتے ہیں، چین میں اب جوڑوں کو علیحدگی کے لیے پہلے امتحان میں کامیاب بلکہ ناکام ہونا ہوگا۔
جی ھاں آپ نے ٹھیک پڑھا !
چین بھر میں متعدد طلاق رجسٹر کرنے والے دفاتر کی جانب سے جوڑوں کو ‘ شادی اور خاندان امتحان’ دینے کی ہدایت کی جارہی ہے، کہ اگر کوئی بھی طلاق چاہتا ہے تو وہ پہلے امتحان دے گا جس کو پاس کرنا ہر حال میں لازمی ہے اور جس کے بعد ہی طلاق عمل میں آئے گی۔
اور آب اس بات نے پوری چین ریاست میں ہلچل مچا دی ہے !
چینی میڈیا کی مختلف رپورٹس کے مطابق ان جوڑوں کو 2 صفحات پر مشتمل 15 سوالات 3 حصوں میں تقسیم کرکے دیئے جاتے ہیں، خالی جگہ پر کریں، مختصر جوابات اور ایک مضمون۔ جو کے مقرر کردہ ٹائم کے مطابق پورا کرنا ہوتا ہے !
سب سے مزے کی بات یہ ہے ......
شوہر یا بیوی دونوں کو اس امتحان کا حصہ بننا پڑتا ہے۔
اس امتحان میں نمبرز پر فیصلہ کیا جاتا ہے ..!
تمام سوالات کے جوابات پر 100 نمبروں میں سے نمبر دیئے جاتے ہیں اور اگر جوڑا 60 نمبر سے زائد حاصل کرلے تو سمجھا جاتا ہے کہ شادی میں نئی جان کی امید ہے۔ اور ایک نئی زندگی شروع
کر سکتے ہیں.
اسی طرح اگر نمبر 60 سے کم ہوں تو یہ عندیہ ملتا ہے کہ یہ رشتہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔
نیچے ٹوئٹ میں ستمبر 2017 کا ایسا ہی امتحانی پرچہ ہے،جس میں بیوی نے 80 نمبر جبکہ شوہر نے 86 نمبر حاصل کیے، جس کے بعد جوڑے کو اتنے نمبر لینے پر طلاق لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
امتحان کو پاس کرنا لازمی ہے !
یہ واضح نہیں کہ اگر جوڑے میں سے کوئی ایک 60 سے زائد نمبر یا پاسنگ مارکس حاصل کرے اور دوسرا ناکام ہو تو پھر کیا فیصلہ ہوتا ہے۔ اور ابھی کوئی بھی چینی اس فیصلے کو منانے کو تیار نہیں ہے
کچھ جوڑے جان بوجھ کر یہ امتحان دیتے ہیں.
اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ اگر جوڑا جان بوجھ کر امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھائے تو پھر کیا کارروائی عمل میں آتی ہے۔ کیوں کہ فیصلہ جج کرتا ہے .
اس فیصلے کا ایک اچھا پہلو بھی ہے کہ ...!
چینی حکام کے مطابق ‘یہ امتحانی پرچے طلاق کی شرح کو کم کرنے کے ساتھ بلاسوچے سمجھے ایک دوسرے سے علیحدگی کے خواہشمند جوڑوں کے اندر تعلق برقرار رکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے’۔ اور انکے درمیاں اختلافات کو ختم کرنا . اور آپس میں محبت سے رہنا کا اچھا طریقہ بتانا .
چین میں حالیہ برسوں کے دوران طلاق کی شرح بہت تیزی سے بڑھی ہے اور 2018 کے پہلے 8 ماہ کے دوران 30 لاکھ کے قریب جوڑوں نے طلاق کی رجسٹریشن کرائی جو 2017 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ تعداد تھی۔

تبصرے :
ایک تبصرہ شائع کریں