حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟


اللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج پیدا کیا ہے سوا مقت کے اسی طرح چقندر میں بہت ساری بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے۔ چقندر کے بیشمار فائدے ہیں۔ اس سے کمزوری دور ہوتی ہے۔اس سے پرنی سے پرنی قبض کتم ہوتی ہے۔ اور اس سے  بواسیر کی شدت بھی بتدریج کم ہوجاتی ہے.سفید چقندر کا پانی جگر کی بیماریوں میں اچھے اثرات رکھتا ہے.

جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ  کے دور میں زیادہ تر قدرتی چیزوں سے علاج کیا جاتا تھا  ہمارے نبیﷺ نے چقندر کو صحت کے انتہائی مفید قرار دیا اور صحابہ اکرام ؓ بھی اسکو شوق سے کھاتے . ایک حدیث ہے ایک بار رسول اللہﷺ حضرت ام منذرؓ کے گھر تشریف لے گئے.حضرت علیؓ آپﷺ کے ہمراہ تھے. اس وقت گھر میں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے. سرکار دوعالم ﷺ نے ان کھجوروں میں سے تناول فرمایا تو حضرت علیؓ بھی کھانے لگے اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا ”
اے علی! تم کمزور ہو اس لئے تم نہ کھاؤ“. ام منذرؓ چقندر کھانے لگیں تو آنحضورﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں. محدثین بتاتے ہیں کہ ان دنوں حضرت علیؓ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور دکھتی آنکھوں پر کھجور کھانا مضر ہے. اس لئے آپﷺ نے حضرت علیؓ کو منع فرمایا اور جب آپﷺ کے سامنے چقندر پیش کئے گئے تو آپﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں اور تمہاری ناطاقتی کو یہ دور کر دے گا. 

تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں