نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو کیوں فرمایا کہ کھانے کی ابتدا نمک سے کرو ؟


نمک ہمارے زندگی میں بہت اہم ترین جز ہے۔ ہم اسے روز مرہ کے کھانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کے بے شمار فائدے ہیں۔اس سے آڈیوین کی کمی کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔اور  ریڈیڈریشن کا ایک اہم عنصر، ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے انسان کا بلڈ پریش کی سطع برقرار رہتی ہے۔ یہ تو تھے سائیسی فائدے لیکن اب میں آپ کو بتاوَں گا قرآن و سنت کی روشنی میں نمک کے فائدے ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی ؓکو وصیت فرماتے ہوئےکہا:اے علی ! کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اور اختتام بھی نمک سے ہو ۔

 چونکہ نمک میں ستر بیماریوں کا علاج ہے ان میں سے کچھ یہاں بیان ہیں

پاگل پن
  جزام(کوڑھ)
 برص، یعنی جلد پر سفیدداغ بن جانا، بلکہ بعض کےتو بال اور پوری جلد بھی سفید ھوجاتی ہے
 گلے میں درد
دانتوں میں درد
 پیٹ میں درد


 امام جعفرصادق رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:جو چاھتا ہے کہ اس کے منہ پر سے کیل اور دانے ختم ھوجائیں اسے چاہیئے کہ کھانا کھاتے وقت پہلے لقمہ پر تھوڑا سا نمک چھڑک لے.

حضرت علی رضی نے اپنےساتھیوں سے پوچھا : بتاؤ بھترین ہانڈی (سالن) کیا ہے ؟ تو ایک نے کہا: گوشت. دوسرے نے کہا : گھی. تیسرے نے کہا زیتون کاتیل، یہاں تک آپ نے خود فرمایا : نہیں ، بہترین غذا نمک ہے۔ 

راوی کہتا ہے ایک دفعہ ھم حضرت علی رضی کے ساتھ سیر کے لئے باہر نکلے، چنانچہ آپ کا خادم نمک لے جانا بھول گیا تو ھم سب بغیر کچھ کھائے واپس آگئے.یعنی حضرت علی اس قدر پابند تھے کے نمک سے ابتدا اور اختتام فرماتے تھے. چونکہ اس سفر میں نمک ھمراہ نہیں تھا لھذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا.

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں : جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھالیتا ہے تو خداوند عالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. جن ان میں سے کم ترین جذام ہے.

تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں