متوازن غذا کے استعمال سے کینسر کے مرض سے بچا جا سکتا ہے


زندگی کے اس روزمرہ کے معمولات میں ایک چھوٹی  سی تبدیلی لاکر کینسر جیسے موزی اور  جان لیوا مرض کو ہم  خود سے اس قدر  دور رکھا جاسکتے ہیں کے اپ اپنی زندگی آسانی سے گزا سکتے ہو۔

 امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں  سامنے انے والی اس بات کو آپ سب کو بتاتا ہو ں  ۔

امریکا کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ عام زندگی کے ایک معمول یعنی متوازن غذا کے استعمال  سے کینسر کو دور رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔

 اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سبزیاں، پھل، اجناس، پروٹین اور دودھ سے بنی  تمام مصنوعات کو آپنے کھانا عادت بنالینا کینسر کے   خطرہ  کو 65 فیصد  حد تک کم کردیتا ہے۔

فلوریڈا یونیورسٹی کی  اس تحقیق کرنے والی ٹیم کا کہنا ہیں  کہ ہم نتائج سے  اس قدر  حیران رہ گئے،کہ   ہمیں توقع تو تھی کہ صحت بخش غذا اس خطرے کو  کم کرتی ہے، مگراس قدر یعنی 65 فیصد کا ہمیں  اندازہ نہیں تھا۔

یہ اس طرح کی   پہلی تحقیق ہے جس میں غذا اور کینسر کے درمیان اس طرح کے تعلق کا باقاہدہ  جائزہ لیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 1988 سے 1994 کے دوران ہونے والے ایک سروے میں شرکت کرنے والے34 ہزار افراد کے ڈیٹا کا باقاہدہ  جائزہ لیا گیا ہے، جس  دوران ان سے غذائی عادات کے بارے میں  پوچھی گئی تھیں۔

 اس نتائج سے معلوم ہوتا ہے  کہ جن کی غذا متوازن تھی، وہ کینسر کے خطرے سے بچے رہیں بلکہ یہ خطرہ 65 فیصد تک کم پایا گیا۔

 اس تحقیق میں شامل ہونے والے  محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ کینسر کے مریضوں کے لیے مثالی غذابلکہ متوازن غذا  کا تعین کرنا آسان ہو جاےَ گا ۔ اور  کینسر جیسے موزی اور  جان لیوا مرض سے بچا وَ کو بھی جس قدر ہو سکے بہتر کر سکیں ۔

تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں