پاکستان جولائی میں اپنا بنایا ہوا سیٹیلائٹ خلا میں بھیجے گ

وزارت خارجہ امور پا کستان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان میں بنایا گیا  2 سو 85 کلوگرام وزن کے  حامل پاک ٹیس-اے ون نامی آبزرویٹری سیٹلائٹ اس ماہ جولائی میں خلا میں بھجا جائے گا۔

 اس قدر حساس آلات اور کیمروں سے لیس پاک ٹیس-اے ون نامی یہ سیٹیلائٹ خلا میں زمین سے 610 کلو میٹر کے فاصلے پر  رہ کر اپنے مقررہ کردہ مدار میں گھومے گا اور سورج کے حساب سے اپنی جگہ بھی تبدیل نہیں کرے گا۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی رابطوں  کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے سائنسدانوں کو اس کامیابی پر ان کو  مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پاکستان کو قابل فخر بنا دیا ہے۔


اس بات کا خیال رہے کہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (آر ایس ایس) کے نام سے معروف اس سیٹلائٹ کی مدد سے زمین کی  خدوخال کا جائزہ لینے اور معدنی ذخائر کا اندازلگاینے جیسے کام لیے جا سکتے ہیں
اس میں موجود آلات کی مدد سے  گلیشیئرز کے  پگھلنے کے  عمل، گرین ہاؤس گیسز کا اخراج، جنگلات میں لگی آگ کی جانچنا اور زراعت اور جنگلات سے متعلق مسائل کو حل کرنا جیسے کام  شامل ہے جو اس سیٹلائٹ سے لیے جا سکتے ہیں  ۔
وا ضح رہے بھارت کی طرف سے اس طرح کی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجنے کا سلسلہ 1970 سے شروع ہے۔
 آئندہ ماہ سیٹلائٹ خلا میں بھیجنا ایک قبل فخر لمحہ اور مثبت قدم ہے کہ ہمارے سائنسدان سیٹلائٹ بنانے اوراس کو  خلا میں بھیجنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

تبصرے :

ایک تبصرہ شائع کریں